پاکستان کی سابق آرم چیف جنرل(ر) مرزا اسلم بیگ نے نجی ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ پرویز مشرف نے امریکہ اور اتحادیوں کی سازشوں کا حصہ بن کر وزیرستان میں آپریشن کیا جس کے نتائج آج ہم ملک بھر میں دہشت گردی کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔
اسلم بیگ نے کہاکہ ہمیں پہلے سازشوں کا ادراک ہونا چاہیے اور ان کا توڑ کرنے کی ہم میں صلاحیت ہے آج ہماری بدنصیبی ہے کہ ہم ان سازشوں کو سمجھ نہیں رہے آج ہمارا جمہوری نظام خطرے میں ہے علاقائی سرحدیں خطرے میں ہیں افواج پاکستان اس وقت خطرے میں ہیں ، آئی ایس آئی خطرے میں ہے اور ہماری ایٹمی صلاحیت خطرے میں ہے.انہوں نے کہاکہ بے نظیر بھٹو سے ڈیل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن جب وہ پاکستان آئیں تو انہوںنے عوامی موڈ دیکھنے کے بعد ڈیل سے منحرف ہو گئیں اور ظالموں نے انہیں منظر سے ہٹا دیا. موجودہ حکومت بھی ڈیل کے نتیجے میں وجود میں آئی اور اس ڈیل کے اثرات آج ہم دیکھ رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ مشرف کی اجازت دینے کے بعد سی آئی اے سرحدی علاقے میں پھیل گئی اور پاکستانی ایجنسیوں کو پیچھے ہٹا لیا گیا اور افغانستان میں موجود بھارت کا نیٹ ورک سی آئی اے کے ساتھ شامل ہو گیا اور دیر ، باجوڑ ، سوات ، وزیرستان اور بلوچستان تک کے علاقے کو کھوکھلا کر دیا گیا ہے اور سینکڑ وں جاسوس اس علاقے میں موجود ہیں۔اسلم بیگ نے کہاکہ بگرام ایئر بیس سے دو ہیلی کاپٹر پاکستان آئے اور وزیرستان سے سترہ افراد کو لے کر چلے گئے اور دوسرے دن ان کو بگرام سے جبل سراج پہنچا دیا گیا حکومت کو اس بارے جواب دینا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ فوج اور آئی ایس آئی کو کیری لو گر بل میں ٹارگٹ کیا گیا ہے؛ ان سازشوں کی تفصیل ایک حد تک ہماری حکومت کو معلوم ہے اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان سازشوں کا کیسے مقابلہ کرنا ہے۔ اسلم بیگ نے کہاکہ فوج کی تبدیلی آئی جب سوات میں فوجی آپریشن کیا گیا تو ہمارے دوستوں کو بہت تکلیف ہوئی کہ اب پھر آئی ایس آئی اسی علاقے میں آ گئی ہے جس میں ان کو گھومنے پھرنے کی آزادی ہے۔ پرویز مشرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سازش کا حصہ بن کر وزیرستان کے عوام پر چڑ ھ دوڑ ے جس کے نتائج آج ہم بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد امریکہ نے افغانستان بارڈر پر اپنی گیارہ چیک پوسٹیں کیوں ختم کر دیں یہ سوالیہ نشان ہے!انہوں نے کہاکہ عوام کی بیداری کی وجہ سے عدلیہ بحالی تحریک کامیاب ہوئی اور آج عدلیہ بڑ ے بڑ ے فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے کیری لوگر بل پر اعتراض کے بعد حکومتی جواب نہ ملنے پر مقدمہ عوام کے سامنے پیش کیا ۔ ہماری حکومت کی ترجیحات اور ہیں اور اس قیادت سے توقعات غلط ہیں۔